retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 249
retina
Stacks Image 304
retina
Stacks Image 306
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
retina
Stacks Image 478
retina
retina

وونڈل پارک ، آٹھواں انشا ، ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Vondelpark, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 8, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Narration by: Shariq Ali
September 18, 2019
retina

Named after an outspoken poet, this centrally placed largest park in Amsterdam welcomes about 10 million visitors each year

 

وونڈل پارک ، آٹھواں انشا ، ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

ٹھیک کہا آپ نے ،  ٹریول کارڈ زیادہ استعمال نہ کیا تو پیسے وصول نہ ہوں گے  . چلیے اس سامنے کھڑی ٹرام  میں جس کے ماتھے پر وونڈل پارک لکھا ہے سوار ہو جاتے ہیں . ایمسٹرڈیم کا سب سے بڑا ، مشہور اورخوبصورت پارک . یوں تو آٹھ لاکھ آبادی کے اس شہر میں تیس  سے زیادہ پارک ہیں لیکن وونڈل پارک اپنی مثال آپ ہے . چلتی ٹرام کی کشادہ کھڑکیوں سے بارونق سڑکوں کے منظر بھی خوب تھے . ٹرام سے اترنے کے بعد دس منٹ کا پیدل راستہ ہے پارک کے مرکزی گیٹ تک . چلیے گوگل میپ فون پر لئے آپ آگے اور میں پیچھے . ارد گرد قرینے سے بنے مکانات اور پھولوں بھری کیاریوں کے سامنے فٹ پاتھ پر چلنا بہت خوشگوار ہے . وہ  دیکھیے سڑک کے کنارے قطار سے کھڑی کاروں کے پیٹرول بھرنے کی کھڑکی سے جڑے  پلگس اور تار جو فٹ پاتھ کے ساتھ بنے  پوسٹ باکس سے ملتے جلتے چارجنگ سٹیشنوں سے بجلی حاصل کر رہے ہیں .  بجلی کی کاروں کا استعمال پورے یورپ میں بڑھ رہا ہے.  رات بھر چارج ہو کر یہ کئی دنوں کے استعمال کے قابل ہو جائیں گی . نہ شور نہ دھواں . کم خرچ بالا نشین . لیجیے ہم پارک کے مرکزی گیٹ تک پوھنچ گئے .  لوہے کے جنگلے سے بندھی سایکلوں کی تعداد تو ذرا دیکھیے . آج جیسی نکھری دھوپ نکلی ہو تو بہت سے لوگ یہاں کا رخ کرتے ہیں . یہ جو خوش اندام اور کم لباس گوری میمیں آپ کو اس پارک میں کثرت سے نظر آ رہی ہیں اور جن میں آپ لا شعوری طور ضرورت سے زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں ان کی یہاں آمد کی وجہ واللہ آپ نہیں سورج ہے  . یہ حسینائیں جھیل کنارے پارک کے سبزہ زار میں دھوپ تلے لیٹ کر جلد سنولانے کے لئے یہاں آئ ہیں .آپ اپنی توجہ چہل قدمی کرتے یا کتے ٹہلاتے بوڑھوں ، جاگنگ کرتے نوجوانوں یا سامنے کیفے میں چاے ، کوفی یا مسلم ممنوع مشروبات کا گلاس تھامے بھانت بھانت کے سیاحوں پربھی کر سکتے ہیں .  چھوٹی سی مصنوعی جھیل عبور کرتے لکڑی کے تختوں سے بنے پل پر بکھرے بے شمار پیلے پتوں کا حسن تو ذرا دیکھیے . جا بجا  لگے خوبصورت اور نایاب درختوں کا بھی جواب نہیں. وہ دیکھیے پیدل گزرگاہوں کے پاس سرخ پھولوں سے ڈھکی دائرہ وار کیاریوں کے بیچ ایک بڑا سا سنگی مجسمہ.  یہ ہے جوسٹ وین ڈن وونڈل . یہ پارک اسی کے نام منسوب ہے.  پیدا تو وہ سن پندرہ سو ستاسی میں جرمنی کے شہر کولون میں ہوا تھا لیکن مذہبی منافرت کے شکار ہو کر اس کے خاندان کو ہجرت کر کے ایمسٹرڈیم میں مستقل آباد ہونا پڑا .  اس کے والد یہاں ہوزری کا کامیاب کاروبار جمانے میں کامیاب ہو گئے تھے  . والد کی خواہش تو یہ تھی کے وہ کاروبار میں ہاتھ بٹاے  لیکن وہ نوعمری ہی سے ایمسٹرڈیم کے شاعروں اور لکھاریوں میں اٹھنے بیٹھنے لگا . حلقے کا نام تھا وائٹ لیونڈرز ۔ یہاں اسے بہت سے مایاناز لکھاریوں سے ملنے اور ان سے سیکھنے کا موقع ملا . پھر وہ شاعری اور ڈرامہ نویسی کی سمت چل نکلا. والد کی وفات کے بعد اس نے اپنی محبوبہ ماریہ سے شادی کی جس نے بخوبی کاروبار سنبھالا.  یہ محبت اور رفاقت پچیس سال تک قائم رہی . روز مرہ کی ذمہ داریوں سے بے نیاز وہ اپنے فن کی طرف متوجہ رہا. اس نے جرمن ادب پاروں کو ولندیزی میں ترجمہ کر کے  ادبی صلاحیت میں اضافہ کیا . پہلا ڈرامہ سولہ سو دس میں لکھا جو دو سال بعد سٹیج ہوا . بنیادی خیال ہجرت کا غم تھا  . اس نے یہودیوں کی مصر سے ہجرت کے پس منظر میں اس انسانی المیے کو بیان کیا.  دھیرے دھیرے تحریروں میں صاحب اقتدار طبقے کے خلاف بغاوت کا رنگ غالب آتا چلا گیا.  سولہ سو پچیس میں ایک باغیانہ ڈرامہ اسٹیج کیا تو بہت سیاسی ہلچل مچی اور اسے روپوش ہونا پڑا . وہ ہالینڈ بلکہ پورے یورپ میں باغی لکھاری کے طور پر مشہور ہوا  . مقدمہ چلا لیکن مہربان مجسٹریٹ نے صرف مالی جرمانہ عائد کر کے رہا کر دیا .  اس کی بیوی اور دو بچوں کا انتقال ہوا تو اس نے اپنی شاہکار المیہ نظمیں لکھیں . مذہبی جبر کے خلاف لکھی گئی اس کی باغیانہ نظمیں اور ڈرامے آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ………….. جاری ہے

دام اسکوائر، ساتواں انشا ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Dam square , INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 7, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Posted by: Shariq Ali
retina

A bustling town square in Amsterdam, surrounded by notable buildings is the most well-known and important location in the city

 

 

 

دام اسکوائر، ساتواں انشا ، ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

کنال کروز سے فارغ ہو کر دام اسکوائر کی جانب چلے . راستے کے ایک جانب ریستورانوں کی ویسی ہی بہتات تھی جیسے سامنے  فٹ پاتھ پر سیاحوں کی یا ساتھ گزرتی مصروف سڑک پر ٹراموں اور تیز رفتار ٹریفک کی . بھئی میرا تو بھوک سے برا حال ہے . یہ سامنے لبنانی کیفے کیسا رہے گا . بیٹھنے کی جگہ بھی مناسب ہے. حلال شیش کباب ، دال کا سوپ اور بہت سی میڈیٹیرانیان سلاد . ہاتھ ذرا ہولا رکھیے گا . کچھ وقفہ دے کر ساتھ کی گلی میں تازہ پھلوں اور سبزیوں کا فوری نکالا جوس بھی پیئں گے . آپ کو سفر میں تازہ دم رکھنا بھی تو ضروری ہے . کھانے سے فارغ ہو کر کوئی فرلانگ بھر چلے ہوں گے تو دام اسکوائر آ گیا  . ایک طرف شاہی محل کی بڑی سی شاندار عمارت اور  سامنے کشادہ میدان نما چوک جو کبوتروں اور سیاحوں سے پر ہے. میدان کے ارد گرد  بہت سی دیگر جدید و قدیم متاثر کن عمارتیں اور ان کے درمیان سے شروع ہوتی گلیاں جن میں آمنے سامنے دنیا بھر کی فیشن ایبل دکانوں سے بھرے بازار ہیں . یاد رہے کہ  ایمسٹرڈیم کی زمین کبھی کیچڑ بھرا میدان ہوا کرتی تھی اور یہاں  عمارتیں براہ راست زمین پر بنانا ممکن نہیں تھا .  پہلے لکڑی کے ستون گہرای تک گاڑے جاتے تھے پھران پر عمارت کھڑی کی جاتی تھی . دام اسکوائر کا یہ کئی منزلہ شاندار شاہی محل ساڑھے تیرہ ہزار لکڑی کے ایسے ہی ستونوں پر تعمیر کیا گیا ہے . سترھویں صدی میں ایک عالمی طاقت بن کر اس محل کی تعمیر پر اتنی دولت خرچ کرنا ان گمنام بحری مہم جوؤں کی وجہ سے ممکن ہوا جو فار ایسٹ اور ایشیا جانے والی انفرادی مہمات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے. لیکن جو علم اور تجربہ ان کی ناکامیوں سے حاصل ہوا وہ آنے والے دنوں میں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے کارآمد ثابت ہوا۔ ہسپانوی،  پرتگالی اور پھر برطانوی  کیونکے مصالحوں کی تجارت اور کالونیاں بنانے میں پہلے ہی سے بہت کامیاب تھے اس لیے ہالینڈ نے حکومتی سطح پر یہ فیصلہ کیا کہ  قانونی طور پر ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کو فوج بنانے ، جنگ کرنے ، غلام بنانے اور تجارتی مونوپولی کے مکمل اختیارات دے دیۓ جایں تاکے ان کی کامیابی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو . یہ قانونی تحفظ  ہالینڈ کی معاشی ترقی میں سب سے اہم سنگ میل ثابت ہوا . ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی ہالینڈ کا ایسا معاشی انجن ثابت ہوئی جس کے ثمرات آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں . اختیارات کے علاوہ اس کمپنی کو بہت سے سرمائے کی بھی ضرورت تھی . ہالینڈ کے لوگوں نے سرمایہ اکٹھا کرنے کے لئے ایک منفرد طریقہ ڈھونڈا جو آج کی دنیا کے سرمایا دارانہ نظام کی بنیاد ہے.  ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ایمسٹرڈیم میں دنیا کی پہلی سٹاک مارکیٹ قائم کی یعنی وہاں کوئی بھی شہری آکر کر اس کمپنی کے حصے یا شیرز خرید سکتا تھا. عوامی سرمایہ کاری کی یہ پوری دنیا کی تاریخ میں پہلی مثال ہے . دیکھتے ہی دیکھتے ایمسٹرڈیم اور پورے ہالینڈ کے شہری بلکہ بہت سے دیگر یورپین شہریوں نے بھی آکر ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی میں سرمایا کاری کی . اس طرح آج کے حساب سے ایک سو دس ملین ڈالر کی رقم اکٹھی ہوئی . پہلے انڈونشیا زیر نگین ہوا اور وہاں کے بے گناہ مقامی لوگوں کو بیدردی سے قتل کیا گیا . پھر منافع اور لالچ کا یہ خونی سفر ایشیا، افریقہ اور امریکا کے کئی ممالک تک جا پوھنچا . خدا خیر کرے . وہ خوش بدن مختصر لباس سائکل سوار میم آپ کے پہلو کو ذرا سا چھو کر گزر گئی ہے کیونکہ آپ جہاں کھڑے تصویر اتار رہے ہیں وہ فٹ پاتھ نہیں سائکل ٹریک ہے . آٹھ لاکھ آبادی اور نوے جزیروں پر مشتمل اس شہر میں کوئی دس لاکھ سائکلیں تو ہوں گی اور ساٹھ فیصد لوگ سائکل سوار . لگتا ہے تھک گئے ہیں آپ ورنہ یہاں کے بازاروں کی سیر کرواتا . خاص طور پر پھولوں، پنیر اور قدیم نوادرات کے بازار …………….. جاری ہے

کمپنی ، چھٹا انشا ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Dutch East India Company, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 6, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Posted by: Shariq Ali
retina

Enjoy the Amsterdam canal cruise and story of beginning Dutch East India in this episode

 

 

 

کمپنی ، چھٹا انشا ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

 ایمسٹرڈیم سنٹرل ٹرین سٹیشن کی عمارت کے سامنے کا رخ کسی محل کی طرح شاندار ہے . کلاک ٹاور کے نیچے کھڑے ہو کر سامنے دیکھیے تو آتی جاتی ٹراموں ، پیدل سیاحوں کی چہل پہل اورسامنے نظر آتی نہروں کے اوپر سے گذرتے پلوں پر رکھے رنگا رنگ پھولوں بھرے گملوں کا حسن مسحور کر دیتا ہے .  نہروں میں تیرتی، ادھر سے ادھر جاتی مختلف کمپنیوں کی رنگ برنگی چھوٹی بڑی بوٹس منظر کو مزید دلکش بنا دیتی ہیں.  آن لائن خریدے ہوۓ لورز کینال کروز کے ٹکٹ پر پانچ بجے جیٹی پر پوھنچنے کی ہدایت لکھی ہے .ابھی تو آدھا گھنٹہ باقی ہے . وہ دیکھیے سامنے ہی تو ہے لوورز کروز کی جیٹی . چلیے اس وقفے میں کچھ یادگار تصویریں کھینچ لی جایں اور ذرا دیر کو اس پل پر کھڑے ہو کردور تک نظر آتے شہر کی شاندار عمارتوں اور اس ملک کی تاریخ پر سرسری نظر ڈال لی جاے . ہالینڈ ایک چھوٹا سا ملک ہے.  کہتے ہیں  کہ کسی کھلے میدان میں اونچی سی کرسی پر کھڑے ہو کر اگرچاروں طرف دیکھا جاے تو اس ملک کی ساری سرحدیں حد نگاہ میں ہوں گی . اس کے باوجود اس قدر تجارتی کامیابی اور دولتمندی.  یہ ملک سترھویں صدی میں ایک عالمی طاقت تھا . آخر کیسے ؟ شاید یہ بات آپ کو مزید حیران کرے کہ یہ ساری معاشی کامیابی صرف ایک کمپنی کی مرہون منت تھی.  ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی.  یہ سچ ہے کہ سولہویں صدی میں اس ملک کی معاشی صورت حال بے حد خراب تھی.  یہ ان دنوں ہسپانیہ کے قبضے میں تھا . اسی سالہ جنگ کے بعد یہ آزاد تو ہوا لیکن آزادی کی اس جدوجہد  نے معاشی مشکلات میں بے حد اضافہ کیا . ان دنوں ڈچ معیشت کا دار و مدار پرتگال کے شہر لزبن سے مصالحہ جات خرید کربحری سفر  کے ذریعے  اسے  پورے یورپ کے ممالک میں بیچنا تھا . جبکہ پرتگال ان دنوں فار ایسٹ اور ایشیا سے لاے مصالحوں کی تجارت میں دنیا بھر میں سر فہرست تھا. یورپی لوگ مصالحے کھانوں میں ذائقے کے لئے نہیں بلکے غذا کو دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے استعمال کیا کرتے تھے . آزادی کی جدوجہد شروع ہوئی تو ہسپانیہ نے لزبن سے یہ تجارتی سلسلہ بند کر دیا . اوہو! پانچ بجنے میں صرف دس منٹ رہ گئے ہیں.  وہ دیکھیے لورز کنال کروز میں سوار ہونے والا گیٹ  بھی کھل چکا . لوہے کی سیڑدھیاں اتر کر ٹکٹ دکھاتے ہوے کنارے پر بندھی بوٹ میں داخل ہو کر کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھنا مناسب ہے .  ایک خوش شکل دراز قامت ڈچ نوجوان  نے اپنا تعارف اس کروز  کے کپتان اور گائیڈ کی حیثیت سے کروایا اور پہلے  حفاظتی ہدایات دیں اور تمام کوڑا مخصوص بن میں پھینکنے کی تاکید کی.  کمنٹری کے لیے ایئر فون تقسیم کیے اور مقررہ وقت پر ہماری بوٹ کنال کروز کے لئے روانہ ہوی. خراماں خراماں سفر شروع ہوا  تو ساتھ ہی ساتھ اٹھارہ زبانوں میں دلچسپ کمنٹری کی ریکارڈنگ بھی آن کر دی گئی اور اردگرد کی تاریخی عمارتوں سے تعارف کا آغاز ہوا . دریا اور اس سے جڑی نہروں میں ادھر سے ادھر جاتی رنگ برنگی اور چھوٹی بڑی کشتیوں میں سوار خوش بدن اور خوش لباس سیاح اور کناروں کے ساتھ  مخصوص ڈچ طرز تعمیر کی عمارتیں اور ہاربر پر لنگر انداز چھوٹے بڑے جہاز. ارد گرد دیکھنے کو بہت کچھ ہے . شہر کے بیچ سے گزرتی نہروں میں ثقافت اور تاریخ کی جادو نگری میں ہچکولے کھاتی سیر . نوے منٹ کی اس سیر میں بے حد دلچسپ تاریخی حقائق جاننے کا موقع ملا . کناروں پر لنگر انداز بہت سی کشتیاں رہائشی گھروں اور ریستورانوں کے طور پر استعمال ہوتی ہیں اور کھڑکیوں میں سے جھانکتے بہت سے منظر جیتی جاگتی کہانیوں کی جھلکیاں محسوس ہونے لگتے ہیں . میں سوچنے لگا سمندروں اور کشتی رانی سے یہاں کے لوگوں کی اتنی وابستگی اور مہارت اور لزبن سے تجارتی پابندی کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی ضرورت نے انہیں فار ایسٹ اور ایشیا جیسے دور دراز علاقوں کے بحری سفر پر مجبور کیا تھا . دولتمند بننے کا خواب لئے کتنے ہی ڈچ مہم جو اس ملک سے اپنے بحری جہازوں میں مصالحوں ، چاندی اور ریشم کی تلاش کے سفر پر نکلتے تھے.  انجانے اورطویل بحری سفر . ابتدا میں یہ مہمات انفرادی تھیں اور دس جانے جانے والے جہازوں میں سے آٹھ یا نو  جہاز آدھے زندہ عملے سمیت واپس ہالینڈ لوٹتے تھے اور تقریباً آدھے دوران سفر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے . پھر ان مہم جوؤں نے ایک مشترک کمپنی کی بنیاد رکھی . ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی ……………… جاری ہے

دل کشی ، پانچواں انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ADORABLE, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 5, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Posted by: Shariq Ali
retina

Amsterdam Central station is not just a public transport spot, it is simply adorable

 

 

دل کشی ، پانچواں انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

پلیٹ فارم نمبر تین پر سینٹرل ایمسٹرڈیم جانے والی ٹرین چند منٹ کے انتظار کے بعد ہمارے سامنے تھی.  جدید طرز کی اعلی معیار ٹرین .  لندن کی بیشتر انڈرگراؤنڈ ٹرینوں سے کہیں بہتر . کھڑکی کے ساتھ والی نشست پر بیٹھتے ہی ٹرین چل پڑی .   اردگرد کے دوڑتے مناظر میں خوش حالی اور تنظیم کا خوش گوار احساس تھا . صاف ستھری اور جدید طرز کی سڑکیں اور عمارتیں اور بیچ بیچ میں آتے جاتے کھیت اور ہرے بھرے میدان . صحتمند  اور خوشرنگ گھاس چرتے مویشی . پھر ٹرین ایک میلوں لمبے سولر پینل گارڈن  کے پاس سے گزری . نجانے کتنی الیکٹرسٹی جنریٹ ہوتی ہوگی یہاں سے شاید پورے قصبے کے لئے کافی . ٹرین کوئی پون گھنٹے کے سفر کے بعد سینٹرل ایمسٹرڈیم کے سٹیشن پر جاکر رکی تو ہم سمیت تمام مسافر ٹرین سے باہر آئے. زیادہ تر سیاح یورپی تھے یا چینی ، جاپانی وغیرہ . ایشیائی لوگوں کی تعداد بہت کم تھی بلکہ نہ ہونے کے برابر. ایمسٹرڈیم سنٹرل اسٹیشن ایک شاندار اور جدید ریلوے اسٹیشن ہے جہاں سے پورے نیدرلنڈ بلکہ یورپ کے لئے ٹرینیں دستیاب ہیں . اٹھارہ سو اکیاسی میں آٹھ سال کے عرصے میں اس نیو رینیساں طرز کی محل نما عمارت کی تعمیر مکمل ہوئی تھی. اس کے پلیٹ فارم ہال کی وسعت اور دبدبہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے . اس کے مرکزی دروازے سے روزانہ گزرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے . آئیے ہم پلیٹ فارم سے باہر نکلنے کے لئے سامنے کے مرکزی رخ کے بجاے مخالف سمت میں  اس مقام سے باہر نکلتے ہیں جہاں آئ دریا کے سنٹرل ہارپر کے ساتھ ساتھ ایک شاندار سڑک بنی ہوئی ہے.  یہاں کاروں سے زیادہ سائکلوں کا رش ہوتا ہے . بلند و بالا کمان نما ستونوں اور شیشے کی چھتوں سے اس کشادہ  میدان کو ایک طرح سے انڈور بنا دیا گیا ہے . سڑک کے رخ بنی جدید دکانوں اور ریستورانوں کا سلسلہ ہے اور دوسری جانب دریا کے کنارے کشتی نما کوفی ہاوس اور فیری ٹرمنل . کیوں نا ساحل کے کنارے اس دلکش ریستوران میں میپل سیرپ میں لتھڑے پین کیکس کا لطف اٹھایا جاے . حسین ویٹریس کو یوں مسلسل نہ دیکھیے . بھلا محسوس نہیں ہوتا . یہ شعر یورپ کے شہروں کی سیاحت کے دوران یاد رکھیے . ع  یہاں کے لوگ اپنے دل کی باتیں دل میں رکھتے ہیں …. تمھارے شہر کی اک یہ ادا اچھی لگی ہم کو .  وہ دیکھیے خوشرنگ چھوٹی کشتیوں سے پرے دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک بڑی سی فیری کی مسلسل آمد و رفت . مزے کی بات یہ کے پیدل یا سایکل سمیت فیری کے اس سفر کا کوئی کرایہ نہیں . نارتھ ہالینڈ تک عوام کے جانے آنے کے لئے سرکار نے یہ انتظام مفت کر رکھا ہے . ہالینڈ ایک سوشل ویلفیئر سٹیٹ ہے یعنی مفت تعلیم ، طبی سہولیات اور بے روزگاری الاونس وغیرہ بلا تفریق سب کو حاصل ہے اور حکومت کی ذمے داری . شاید یہ یوروپ کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے اور گھومتے پھرتے یہاں کی  شہری سہولیات دیکھ کر اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے .  لگتا ہے پین کیکس پسند آے آپ کو . ارے دل چھوٹا نہ کیجیے . اس بڑے سے بل میں ذائقے کے علاوہ خوبصورت منظر اور دلکش مسکراہٹ کے دام بھی شامل ہیں . یاد رہے دلکشی بہت مہنگی ہے یہاں………. جاری ہے

این فرینک کی ڈائری ، چوتھا انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Anne Frank,s Diary, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 4, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Posted by: Shariq Ali
retina

Accounts of living under the Nazi regime of World War II by a thirteen-year-old Jewish girl is now one of the worlds literary treasure

 

 

 

این فرینک کی ڈائری ، چوتھا انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

میریٹ ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوے تو جی کھل اٹھا . بے حد کشادہ اور آرام دہ کمرے . میرا اور آپ کا کمرہ  نہ صرف ساتھ ساتھ ہے بلکہ دونوں جانب کھلتے درمیانی دروازے کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا بھی .  پیچھے کی کھڑکی سے نظر آتا یہ شاندار منظر تو ذرا دیکھیے . ہوٹل کا بے حد حسین پائیں باغ جس میں بار بی کیو کا انتظام بھی موجود ہے. چار دیواری کے پیچھے دور تک پھیلے سبزہ زار اور اس میں سے ہو کر گذرتے پگڈنڈیوں جیسے سایکل ٹریک .  کمرہ میں تمام جدید سہولتیں موجود ہیں  جیسے ٹی وی ، اے سی ، اٹیچڈ باتھ، لاکر ، مشروبات سے بھرا فرج ، چاے کوفی کا مکمل انتظام اور استری وغیرہ.  بستر اور لنن بھی بے حد آرام دہ .  اس وقت کیونکے شام کے سات بج رہے ہیں اور دن بھر کی تیاری اور سفر نے کچھ تھکا سا دیا ہے اس لئے  باہر جا کر کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کی ہمّت مجھ میں تو نہیں .  روم سروس کے اس مینیو  کی قیمتیں تو ہوش ربا ہیں  . مناسب یہ ہی ہو گا کے نیچے ریسٹورینٹ میں جا کر باقاعدہ ڈنر کے بجاے مارگریٹا پیزا کھا کرکام چلا لیا جاے . کھانے سے فارغ ہو کر  کمرے میں کتاب پڑھتے پڑھتے میں کب سویا ٹھیک سے یاد نہیں . اگلی صبح ناشتہ کیا اور  پروگرام کے مطابق پہلے میٹرو بس میں بیٹھ کر ایئرپورٹ گئے اور اٹھائیس یورو فی کس دے کر  دو دن کا ٹریول پاس بنوایا. اب ہم ٹرین اور بس میں ہر طرح کے سفر کے قابل تھے . پچھلی بار ہالینڈ آیا تھا تو میں نے ایمسٹرڈیم سینٹرل میں دن بھر کی تفریح سے خود کو خوب تھکا لیا تھا . پیدل گائیڈڈ ٹور میں مختلف تاریخی اور دلچسپ جگہوں کو کمنٹری کے ساتھ دیکھنے میں کوئی تین گھنٹے لگے تھے . اس کے بعد وان گوگ میوزیم کی تفصیلی سیر . لیکن اس بار میرا ارادہ اپنے طورپر ہوف ڈورپ اور ایمسٹرڈیم میں بغیر  منصوبہ بندی کے آوارہ گردی کرنا  اور آپ سے خوب سی باتیں کرنا ہے. یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ ہالینڈ کے بسنے والے ڈچ کہلاتے ہیں . جرمینک قبیلوں اور حملہ آور رومنوں، فرانک اور ہپسبرگ حکمرانوں کی بے حد صحتمند اور دراز قد ملی جلی نسل ہیں یہ لوگ . یہ ملک سولہویں صدی میں ہسپانیہ کے قبضے سے آزادی حاصل کر کے ریپبلک آف نیدرلینڈ بنا تھا . سترہویں صدی ان کے عروج کا زمانہ ہے . اپنی بحری برتری کی وجہ سے یہ عالمی طاقت بنے. دنیا کے دور دراز علاقوں جیسے افریقہ ، جنوبی ایشیا اور جنوبی امریکا میں کالونیاں بنائیں. فن و ثقافت میں عروج حاصل کیا . ریمبراں، ورمیر اور وان گوگ جیسے فنکار پیدا ہوے . پھر جیسا کے ہوتا ہے اسپین ، فرانس اور برطانیہ سے مسلسل جنگوں نے انہیں کمزور کر دیا ، بیسویں صدی کی دونوں عالمی جنگوں میں انہوں نے غیر جانبدار رہنے کی پوری کوشش کی لیکن دوسری جنگ عظیم میں جرمنی نے قبضہ کر لیا . یہاں سے یہودیوں کا تقریباً صفایا کر دیا گیا.  پچھتر فیصد ڈچ یہودی ہولوکاسٹ میں مارے گئے  . این فرینک کی ڈائری میں ایک مظلوم بچی نے ان دو سالوں کا احوال لکھا ہے جب وہ نازی قبضے کے دوران اپنے خاندان سمیت جان بچانے کے لئے روپوش رہی . پر مصائب زندگی کا دکھ بھرا احوال . بالاخر وہ گرفتار ہوئی اور ازیت خانے میں ماری گئی . اس کی لکھی تحریریں عالمی ادب کا اثاثہ ہیں اور ستر زبانوں میں ان کا ترجمہ ہو چکا ہے . دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو ہالینڈ کے زیر اثر بہت سی کالونیاں بھی آزاد ہوئیں ….. جاری ہے

سورج مکھی ، تیسرا انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ Sunflower by Van Gogh, INSHAY TRAVELOGUE, EPISODE 3, FOUR DAYS IN HOOFDDORP

Posted by: Shariq Ali
retina

The vitality of Van Gogh’s work reminds his sad story

 

 

سورج مکھی ، تیسرا انشاء ، ہوف ڈورپ میں چار دن ، انشے سفرنامہ ، شارق علی ، ویلیوورسٹی

 سخیفول ائیرپورٹ میں چمکتی دمکتی دکانوں کے بیچ کئی رستوران اور فاسٹ فوڈ آوٹ لٹ موجود ہیں لیکن بھوک نہ آپ کو ہے نہ مجھے شاید ہم دونوں ہی ہوٹل پوھنچنے کی جلدی میں ہیں .  ایئرپورٹ کے لمبے کوریڈور سے گزر کر ہم مرکزی دروازے سے باہر آئے تو ٹیکسیوں کی لمبی قطار ہماری منتظر تھی . ایک شاندار کالے رنگ کی چمکتی مرسڈیز ٹیکسی کے کالے سوٹ پہنے لمبے تڑنگے ڈرائیور نے آگے بڑھ کر ہمارا سامان تھام لیا . یہ  سمجھنے  کا موقع بھی نہ مل سکا کہ آخر اس قدر شاندار استقبال کیوں اور عام ٹیکسی کی قطار تو ذرا آگے دوسری جانب ہے  . بہر حال سامان رکھا جا چکا ہے اور اب ہم اس ضرورت سے زیادہ بڑی  اور شاندار ٹیکسی میں بیٹھے ہوف ڈورپ میں واقعے میریٹ ہوٹل کی جانب رواں دواں ہیں . اردگرد کا نظارہ قابل دید ہے . دور تک نظر آتے میدانی سبزہ زار اور ان کے ایک جانب بہتی سیدھی نہر. جدید سڑکوں پر دوڑتا مہذب ٹریفک اور کناروں پر بنی شاندار اور جدید عمارتیں جو انگلینڈ کی نسبتاً پرانی تاریخی عمارتوں سے کم ازکم پہلی نظر میں زیادہ بھلی محسوس ہوتی ہیں . دس یا پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد ٹیکسی ہوٹل کے مین گیٹ کے سامنے جا کھڑی ہوئی . پر فضا ہرے بھرے ماحول میں کوئ دو سو کمروں والا بارعب ہوٹل.  ڈرائیور  نے سامان باہر نکالا اور ٹیکسی کا بل پیش کیا تو اندازہ ہوا کہ لگژری ٹیکسی میں بیٹھنا کتنی بڑی غلطی تھی . بادل ناخواستہ بل کی ادائیگی کرنے کے بعد ہوٹل کا گھومتا مرکزی دروازہ دھکیل کر سامان کھینچتے ہوے سیاحوں کی رونق لئے لابی سے گزر کر ریسپشن پر جا پوھنچے .بائیں جانب شیشے کی دیوار سے جھانکتا شاندار رسٹورنٹ اور بار اور اس میں جاری چہل پہل صاف دکھائی دے رہی تھی . ایک کونے میں بلیرڈ کھیلتے خوش لباس مغربی سیاحوں کی خوش گوار چیخ پکار . قطار ذرا لمبی ہے . دائیں دیوار پر لگی ونسنٹ وان گوگ کی مشہور پینٹنگ سورج مکھی کی یہ تصویر بھی کیا خوب ہے . ایک نظر دیکھنے میں متاثر نہیں کرتی . غور سے دیکھیے تو  سورج مکھی کے چودہ پھولوں میں سے ہر ایک کا انفرادی اور مختلف فنکارانہ وجود وان گوگ کے کمال فن پر قائل کر لیتا ہے. کیا زندگی تھی اس کی . زندہ رہا تو گمنام اور بیحد دکھی . اور آج دنیا کا بیحد جانا مانا اور کامیاب مصور . اپنے انفرادی انداز میں بے مثال . دو ہزار سے زیادہ فن پاروں کا خالق .  پیدا تو وہ یہیں ہالینڈ میں ہوا تھا لیکن اس نے بیشتر یورپ کی آرٹ گیلریوں میں بہت سے عظیم فنکاروں کا کام دیکھا . وہ روز مرہ کی عکاسی کو کمال فن سمجھتا تھا .  دماغی بیماری اور شدید اداسی سے چور وہ اپنی اندرونی کیفیات کو کینوس پر اتارنے میں مصروف رہا . پھر اس تنہائی اور اداسی نے اسے صرف سینتیس سال کی عمر میں خود اپنے ہاتھوں اپنی جان لینے پر مجبور کر دیا . ریسپشنسٹ نے متوجہ کیا تو میں خیالوں  سے باھر آیا . فون سکرین پر بکنگ لیٹر دکھا کر کمرے  کی الیکٹرونک چابیاں حاصل کیں  اور کشادہ لفٹ میں سامان سمیت  داخل ہو کر دوسری منزل کا بٹن دبایا ……………… جاری ہے

retina

FOLLOW

retina   retina   retina   retina
retina   retina   retina

SUBSCRIBE

enter your e-mail address here

  FEED

retinaINSTAGRAM

AUDIOBOO

VISITOR STAT

17,577 unique visits to date
©Valueversity, 2011-2014. All rights reserved.
Powered by Wordpress site by Panda's Eyes
retina
Stacks Image 218
retina
Stacks Image 222
retina
Stacks Image 226
retina
Stacks Image 230
retina
Stacks Image 234
retina
Stacks Image 238
retina